تعریف رسول اللہ ﷺ
خدا نے کرام کے پیکر، پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت فرمائی کا بڑا کام ہے۔ دنیا میں روشنایی کی شروع آپ ہی کے شمول سے ہوئی اور آپ نے بشر کو حقیقت کے راہ پر لایا۔ یوم بروز قیامت آپ جماعت کے سید ہوں گے، آپ کی پیروی فضل کا ذریعہ ہے۔ اپنے دل سے آپ کی مدح کردیں اور آپ کی راہ پر چل۔
ناظرین کے لیے نعتیہ کلام
یہ اِظہارِ حسن کی برکت سے، "ناظرین کے لیے نعتیہ کلام" ایک لطیف مجموعہ آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں حضورِ پاک آنکھوں کے نور کے بارے میں دل افروز کلمات شامل ہیں، جو ادبیات کے رنگ میں رچے گئے ہیں۔ کلام آپ کے دلوں کو پُرحرارت کر دیں گے اور آپ کو حضورِ اکرم خاتم click here الانبیاء کی محبت سے اور بھی مُبدَع کر دیں گے۔ یہ کتابچہ ہر عابد کے لیے ایک بزرگ تحفہ ہے۔ خاطر جمع ہے کہ یہ مُبارک کلمات آپ سب کے لیے رحمت کا باعث بنیں۔
رحمتِ عالم ﷺ کی اعظم شان
انبیاءِ کرام کی رَوِی میں، حضور مصطفٰی ﷺ کی شان لاَ ہے۔ آپ عالم پر کرم کے روپے میں بھیجے گئے، اور آپ کی وجود انسانیت کے لیے عمومی نور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے بڑے اخلاق و ادب کا نمونہ بنایا اور آپ کی رسول ہونے کی افتخار وحدتِ بقا میں موجود ہے۔ مُسلم ہر وقت آپ کی تعظیم اور تابع کے پیروی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انبیاء کے آخری نبیؐ کے الفاظ
نبی اکرمؐ نے دنیا کو ایک بڑی پیغام چھوڑا، جو آج بھی ہمارے لیے فائدہ کا خزینہ ہے۔ ان کے کلمات میں زندگی کے ہر پہلو کا ذکر ملتا ہے۔ یہ کلمات صرف تقوی اور اخلاق کی باتیں نہیں ہیں، بلکہ یہ قوم کو ترقی کا نسخہ بھی ہیں۔ جیسا کہ فرمایا: "تم ایک دوسرے کے کام میں ایک دوسرے کی مدد کرو" - اس طرح بیان ہدایت ہے کہ ہمیں باہمی تعاون اور مدد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ پیغمبر خاتمؐ کے ہر کلمہ میں ایک گہرا درس چھپا ہوا ہے، جسے سمجھ کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
نعتِ مصطفٰیؐ
اس دور سے مسلم عالم میں، نعتِ مصطفٰیؐ کا درجہ بیشتر ہے۔ ان نسیم کی خوشگُوار خُشبو نے بےشمار دلوں کو مثنوی میں خوش کر دیا ہے۔ یہ مدحیہ نہ صرف عشق ہیں، بلکہ ان میں مصطفٰیؐ کی زندگی کا روشنی بھی محسوس ہوتا ہے۔ نااتِ مصطفٰیؐ کا اس مخصوص ذکر میں ہمارے مبارک کلامنواز نے قابل کلامات لکھے ہیں، جو یقیناً خدا کی رحمت سے مستند ہیں۔
نغمۂ عقیدتِ رسولؐ ﷺ
اس دورمیں "محبتِ رسولؐ ﷺ کی صدا" پھیلتی جا رہی ہے، جو ہر روح میں ڈُگ گیا کر گیا ہے۔ متنوع حلقوں میں، احکام کے پیروین، اس بڑی پیغام کو فہیم ہیں اور اِس کے ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ یہ دور کا خاص نعرہ ہے کہ عشقِ رسولؐ ﷺ ہر شئ میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ صدا جاننے کی ضرورت ہے اور اِس کے عمل کا مقابله ہے۔